" کچھ لوگ "انتظار کی شدت " سے تنگ آ کر" چراغِ آ رزو بجھا دیتے ہیں۔
" وہ امید سے نکل کر مایوسی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ "
"وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ "
" انھیں اپنے نصیب پر بھی بھروسہ نہیں رہتا۔ "
" وہ گلہ کرتے ہیں،
" شکایت کرتے ہیں،
" مایوسیاں پھیلاتے ہیں۔
" انہیں شبِ فرقت کی تاریکی تو نظر آتی ہے،
" اپنے دل کا نور نظر نہیں آتا۔
" وہ جس خوبی کا انتظار کرتے ہیں، اسے نا خوب کہنے لگ جاتے ہیں۔ "
" وہ جدا ہونے والے محبوب کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں
اور اس طرح اپنی شبِ انتظار کو کم نصیبی سمجھ کر بے حس اور جامد ہو جاتے ہیں۔ "
" ظاہر سے محروم ہو کر
وہ باطن سے بھی محروم ہو جاتے ہیں "
" اور اس طرح دل کی بردباری
ہستی کی بردباری بن کر
" انہیں تباہی کی منزل تک لاتی ہے۔"
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
