
The increasing heat in Karachi, a coastal city in Pakistan, has become a serious problem. The growing population, widespread industries, deforestation, and rising pollution have made life here difficult. The city experiences continuous heat throughout the year, with no sign of winter, autumn, or spring. From January to December, the city is under the rule of heat. In my previous blogs, you might have understood how much the people of Karachi suffer from this relentless heat. Every year, thousands of people lose their lives due to the extreme temperatures. The heat makes it hard to focus on work and to rest peacefully. In such times, everyone wishes for the blessing of rain. To ask for this blessing, the Salat al-Istisqa is performed, where the entire community prays to Allah for merciful rain.
پاکستان کی ساحلی پٹی پر واقع شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے. شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع و عریض رقبوں پر محیط جا بجا انڈسٹریاں، درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی کی بڑھتی ہوئی صورتحال نے رفتہ رفتہ اس شہر میں رہنا دو بھر کر دیا ہے. یہاں سارا سال گرمی ہی گرمی ہوتی ہے. شہر کراچی کے باسی سردی خزاں بہار وغیرہ کے موسم تو دیکھ ہی نہیں پاتے. جنوری سے لے کر دسمبر تک بس گرمی کا ہی راج ہوتا ہے. آپ کو میری پچھلی بلاگز سے اندازہ ہو ہی گیا ہوگا کہ اہلیان کراچی اس گرمی سے کس قدر نالاں رہتے ہیں. اب تو یہ صورتحال ہو چکی ہے کہ ہر سال ہی گرمی کی شدت کے باعث کراچی میں ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں. گرمی کی وجہ سے نہ ہی کسی کام میں دل لگتا ہے نہ ہی سکون سے آرام کیا جا سکتا ہے. ایسے وقت میں ہر ایک کے دل میں یہی امنگ اور آرزو جاگتی ہے کہ کاش باران رحمت کا نزول ہو جائے. اسی بارش کے نزول کے حصول کے لیے نماز استسقاء مشروع ہوئی ہے. جس میں تمام اہل علاقہ جمع ہو کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ خیر کی بارش کا نزول ہو جائے.
The Concept of Salat al-Istisqa:
Islam provides guidance for every region, season, and situation, both individually and collectively. The teachings of the Prophet Muhammad (SAW) guide a Muslim’s behavior during extreme heat, including seeking refuge from the heat of Hell. In such times, the Salat al-Istisqa is also prescribed. Istisqa means asking for rain. This prayer is performed during drought when people are exhausted by the heat, crops wither, and life becomes unbearable. People gather with humility, asking for forgiveness, praising Allah, acknowledging His greatness, and praying for merciful rain. "Merciful rain" means rain that reduces the heat without causing harm. Excessive rain can lead to floods and disrupt life, so the prayer is for rain that brings relief, not distress.
نماز استسقاء کا تصور:
دین اسلام کی جامعیت دیکھیے کہ اس میں ہر علاقے کے لیے، ہر موسم کے لیے اور ہر معاملے میں ہر شخص کے لیے انفرادی و اجتماعی رہنمائی موجود ہے. شدید گرمی کے اوقات میں ایک مسلمان کا کیا طرز عمل ہونا چاہیے یہ بھی ہمیں نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ و سلّم کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے. شدید گرمی کے موقع پر ہمیں دوزخ کی گرمی سے پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے. اور اس موقع پر صلاۃ الاستسقاء بھی مشروع ہے. استسقاء کے معنی ہیں بارش مانگنا. صلاۃ الاستسقاء وہ نماز ہے جو ایسے وقت میں پڑھی جاتی ہے جب خشک سالی ہو جائے. لوگ گرمی کی شدت سے نڈھال ہوں. مخلوق خدا کی گرمی سے جان نکل رہی ہو. کھیتیاں خشک ہو جائیں. الغرض گرمی کی وجہ سے جینا محال ہو جائے تو ایسے موقع پر تمام لوگ جمع ہو کر یہ نماز پڑھتے ہیں جس میں وہ انتہائی خشوع خضوع کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں. اللہ پاک کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں. اس کی کبریائی کا اعتراف کرتے ہیں. کثرت سے استغفار کرتے ہیں اور پھر گڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ رحمت کی بارش کا نزول ہو. رحمت کی بارش کا مطلب یہ ہے کہ ایسی بارش جس سے گرمی کا زور ٹوٹ جائے مگر لوگوں کو تکلیف نہ ہو. کیونکہ بارش اگر زحمت بن جائے تو لوگوں کا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ جاتا ہے. یہی بارش زیادہ مقدار میں ہو تو سیلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے. اس لیے رحمت کی بارش مانگی جاتی ہے.

My Observation:
As I mentioned, Karachi is always hot, even in December and January. Now it’s July, the peak of the heat season. For the past several days, I’ve been checking weather updates, hoping for a sign of rain to escape this intense heat. However, reports from all meteorological departments consistently indicated that the sun would continue to shine brightly. Amidst this, some circles began to build a consensus on performing Salat al-Istisqa. The demand gradually increased, and why wouldn’t it? Everyone was distressed by the heat. While prayers were continuously made, there’s a unique impact of gathering for prayer. Hence, religious schools and organizations announced that Salat al-Istisqa would be performed after Friday prayers on July 19, 2024. A large crowd participated, fervently praying. While heading to the Friday prayer, I looked at the sky, seeing no sign of clouds. Internally, I was anxious, thinking that although everyone would pray for rain, the conditions didn’t seem favorable for it. After the prayer, the heat remained as intense as ever.
میرا مشاہدہ:
جیسا کہ میں نے ذکر کیا شہر کراچی میں مستقل گرمی کا ہی راج ہوتا ہے پھر چاہے وہ دسمبر یا جنوری کا ہی مہینہ کیوں نہ ہو. اور اس وقت تو جولائی کا مہینہ چل رہا جو گرمی کے عروج کا مہینہ ہوتا ہے. گزشتہ کئی دنوں سے میں اس آس اور امید پر موسم کے متعلق معلومات لے رہا تھا کہ شاید بارش کا کوئی امکان معلوم ہو جائے اور اس شدید گرمی سے نجات کی صورت نکلے. مگر مسلسل تمام موسمیاتی اداروں کی رپورٹیں یہی بتا رہی تھیں کہ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمکتا رہے گا. ایسے میں کچھ حلقوں کی جانب سے صلاۃ الاستسقاء پڑھنے کے بارے میں رائے عامہ ہموار ہونے لگی. رفتہ رفتہ یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا. اور کیوں نہ زور پکڑتا، آخر گرمی سے ہر چھوٹا بڑا پریشان جو ہو گیا تھا. دعائیں تو مسلسل کی جاتی رہیں لیکن اہتمام کے ساتھ جمع ہو کر نماز پڑھ کر دعا کرنے کی الگ ہی تاثیر ہوتی ہے. چنانچہ دینی مدارس اور دینی تنظیمات نے یہ اعلان کیا کہ آج بروز جمعہ یعنی مؤرخہ 19 جولائی 2024 کی دوپہر کو نماز جمعہ کے بعد نماز استسقاء پڑھی جائے گی. اس نماز میں عوام کے جم غفیر نے شرکت کی اور خوب آہ و زاری کے ساتھ دعائیں مانگی گئیں. نماز جمعہ کو جاتے ہوئے میں نے جب آسمان کی جانب نگاہ دوڑائی تو وہاں دور دور تک بادلوں کا نام و نشان نہ تھا. میں اس بات پر اندر ہی اندر تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ بارش کے لیے سب دعا تو کریں گے مگر اسباب سے ایسا نہیں لگتا کہ بارش ہوگی. نماز پڑھ کر واپس آیا تو گرمی جوں کی توں برقرار تھی.

The Blessing of Rain:
Shortly after, dark clouds covered the sky. When I looked outside from my window, it was raining heavily. I rushed down to park my car in a safe spot. The rain was so intense that I was drenched within moments. The cool rain in the scorching heat brought immense relief. I felt embarrassed for my unnecessary despair. Despite what weather instruments might say, for the One who controls all things, it’s not difficult to bring unseasonal rain. I witnessed this merciful rain with my own eyes today. The rain didn’t last long, sparing people from trouble, and the water soon dried up. When I started writing this blog, it was raining, and now, as I conclude, there’s no sign of rain. The sun is out, but the weather has become cool and pleasant. I am compelled to think about Allah’s immense grace upon us. Despite our countless mistakes and shortcomings, He still showers us with His mercy. That’s why He says never to despair of His mercy. When we reflect on our lives, we often become so despondent over small hardships and troubles as if life has ended. But instead of despair, if we act with courage, make efforts, and pray, we can achieve our goals. So, leave despair behind and stay hopeful.
باران رحمت کا نزول:
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں. میں نے حیران ہو کر جوں ہی کھڑکی سے باہر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ زوردار بارش جاری ہے. میں فوری طور پر نیچے گیا تاکہ گاڑی کو سیف جگہ پارک کر لوں. بارش اس قدر زوردار تھی کہ تھوڑی سی دیر میں ہی میں بارش کے پانی میں بھیگ چکا تھا. شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی بارش نے دل کو سکون بخش دیا تھا. میں دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا کہ میں نے خواہ مخواہ ہی مایوسی اختیار کی. موسمی آلات چاہے کچھ بھی کہیں مگر جو ذات دنیا کی سب چیزوں پر اختیار رکھتی ہے اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ بن موسم کی برسات برسا دے. میں نے آج اس رحمت والی بارش کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا. بارش زیادہ دیر نہیں ہوئی. تاکہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو. اور کچھ ہی دیر میں پانی بھی سوکھ گیا. میں نے جب یہ بلاگ لکھنی شروع کی تھی تو بارش ہو رہی تھی اور اب جبکہ ختم کرنے جا رہا ہوں تو بارش کا نام و نشان نہیں. بلکہ دھوپ نکل آئی ہے. مگر موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہو چکا ہے. میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اللہ پاک نے ہم پر کتنا کرم فرمایا ہے. باوجود ہماری لاکھ خطاؤں اور کوتاہیوں کے وہ پھر بھی ہم پر رحمت برساتا ہے. اسی لیے تو وہ کہتا ہے کہ میری رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا. ہم اپنی زندگیوں کو جائزہ لیں تو ہم چھوٹی چھوٹی تکلیف اور مصیبت آنے پر اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں کہ جیسے بس زندگی کا اختتام ہو گیا ہو مگر ایسے موقع پر ہم اگر مایوسی کے بجائے ہمت اور حوصلہ سے کام لیتے ہوئے دعا کریں، محنت کریں، جدوجہد کریں تو ضرور ہمیں ہمارا مقصد حاصل ہو سکتا ہے. اس لیے مایوسی چھوڑیں. پر امید رہیں.
Join Binance through THIS LINK for 10% off trading fees! Let's save together!
ٹریڈنگ فیس میں 10% چھوٹ کے لیے اس لنک کے ذریعے بائننس میں شامل ہوں! آئیے مل کر بچائیں!