
Created using DALLE.3
Surely, you must have been surprised by the title, thinking that someone who is an active member of a charitable organization is speaking against fundraising today. But there is no need to be surprised, as today I am not talking about help, but about begging. As you all know, unemployment is a problem that affects men and women of all ages around the world. Every person needs some form of employment or source of livelihood to live their life. It is evident that with money, one can eat, drink, and live. If someone doesn't have a source of income, they will struggle to obtain one, learn skills, work hard, and through this effort, gradually improve their life. Once they become stable, they can help the poor around them, support them, and contribute to their well-being. This is all well and good, but what I am going to discuss next is a global issue, especially in Pakistan and particularly in my city, Karachi. This issue is diverting people from hard work and instilling a habit of freeloading—begging.
یقیناً آپ عنوان پڑھ کر چونک گئے ہوں گے کہ وہ شخص جو از خود ایک فلاحی تنظیم کا متحرک رکن ہے. وہی آج فنڈ ریزنگ کے خلاف بات کر رہا ہے. تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ آج میں مدد کی نہیں بلکہ بھیک کی بات کرنے جا رہا ہوں. جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ بے روزگاری ایک ایسا مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں ہر چھوٹی بڑی عمر کے مرد و خواتین کو اکثر پیش رہتا ہے. ہر شخص اپنی زندگی گزارنے کے لیے کسی قسم کے روزگار یا ذریعہ معاش کا محتاج ہوتا ہے. ظاہر سی بات ہے کہ پیسے ہوں گے تو وہ کچھ کھائے پیے گا اور زندگی جیے گا. اگر کسی کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرے گا. کام سیکھے گا. محنت کرے گا مشقت کرے گا اور اسی محنت و مشقت کے نتیجے میں وہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کو خوشحال بناتا چلا جائے گا. پھر جب وہ خود مستحکم ہو جائے گا تو اپنے ارد گرد موجود غریبوں کی بھی مدد کر سکے گا. ان کا سہارا بنے گا. ان کی زندگیوں میں بھی خوشحالی لانے کا سبب بنے گا. یہاں تک تو بات بالکل درست ہے. لیکن آگے جو میں بیان کرنے جا رہا ہوں. وہ ایک عالمی مسئلہ ہے، خصوصی طور پر پاکستان میں اور بالخصوص میرے شہر کراچی کا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور وہ ہے محنت مشقت سے لوگوں کو ہٹا کر مفت خوری کی عادت لگانا. جی ہاں. بھیک.

Created using DALLE.3
The Role of NGOs:
In a developing country like Pakistan, countless non-governmental organizations (NGOs) are spending their resources on public welfare. These organizations work on various projects in different areas. Some address food shortages, others tackle water scarcity, some provide rations, while others establish free hospitals to treat the needy. These organizations work for the betterment of society in various capacities and undoubtedly, their services should be appreciated as they operate in an environment where making a living is extremely difficult. Their role in economic development is undeniable. Many people, who do not have homes or food, receive essential support like housing, donations, or food because of these institutions. They also receive medical facilities and scholarships for children's education. During events like weddings or festivals, various organizations do their best to help.
این جی اوز کا کردار:
پاکستان جیسے پسماندہ اور ترقی پذیر ملک میں ڈھیروں کے حساب سے ایسی غیر سرکاری تنظیمیں موجود ہیں جو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنا سرمایہ خرچ کرتی ہیں. یہ تنظیمیں مختلف علاقوں میں مختلف پراجیکٹس پر کام کرتی ہیں. کہیں کھانے کی کمی کو پورا کیا جاتا ہے، کہیں پانی کی کمی کو، کہیں راشن دیا جاتا ہے، کہیں مفت ہسپتال بنا کر نادار و مفلس لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے. ہر جگہ مختلف لوگوں کے یہ تنظیمیں کام کرتی ہیں. بلاشبہ ان کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے کہ وہ اس معاشرے میں کام کر رہی ہیں جہاں پر گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہے. لوگوں کی معاشی ترقی میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے. کئی لوگ ایسے ہیں، جن کے پاس رہنے کو گھر نہیں یا کھانے کو کچھ نہیں. مگر ان اداروں کی بدولت بہت سے لوگوں کو گھر بار، عطیہ صدقہ یا کچھ کھانے کو لازمی مل جاتا ہے. جس سے وہ اپنی گزر بسر کر پاتے ہیں. علاج معالجے کی سہولیات مل جاتی ہیں. بچوں کی تعلیم کے اخراجات کے لیے اسکالر شپس مل جاتی ہیں. شادی بیاہ اور عید و تہوار وغیرہ جیسی تقریبات کے موقع پر بھی مختلف تنظیمیں اپنی اپنی بساط کی حد تک کام کرتی رہتی ہیں.

Created using DALLE.3
Negative Impact of Charitable Organizations on Public Mindset:
Ideally, the services of charitable organizations should eradicate poverty and underdevelopment. People should gradually become self-reliant and start giving aid instead of receiving it. However, in our society, we see the opposite. The habit of freeloading and begging has diminished the zeal for earning through hard work. Clearly, when ready-made food is available without effort, why would anyone toil? Consequently, the rush at free food centers has increased, and despite the proliferation of NGOs, the number of beggars keeps growing. Many people have even started corrupt businesses under the guise of NGOs. Since NGOs are not subject to regular governmental audits, they provide a perfect opportunity for the mafia to launder their black money. On the other hand, the public continues to extend their hands towards these NGOs, resulting in the truly needy being deprived. All the charity and alms are taken by those who do not actually deserve it.
فلاحی اداروں کا عوام کے ذہنوں پر منفی اثر:
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فلاحی اداروں کی خدمات کے نتیجے میں غربت اور پسماندگی ختم ہو جائے. لوگ رفتہ رفتہ خود کفیل ہوتے چلے جائیں اور امداد لینے کے بجائے امداد دینا شروع کر دیں. مگر ہمیں اپنے معاشرے میں اس کے برعکس صورتحال دکھائی دیتی ہے. مفت خوری اور بھیک کی عادت نے محنت کر کے کمانے کا جذبہ ختم کرکے رکھ دیا ہے. ظاہر سی بات ہے. جب پکی پکائی روٹی بغیر محنت کے مل رہی ہو تو کیونکر کوئی اپنی جان کھپائے گا؟ چنانچہ مفت دسترخوانوں پر رش بڑھتا چلا گیا. این جی اوز بڑھتی چلی جا رہی ہیں پھر بھی محتاج بجائے کم ہونے کے مزید ہوتے چلے جا رہے ہیں. بلکہ اکثر لوگوں نے تو این جی اوز کی آڑ میں بدعنوانی کا دھندا شروع کر رکھا ہے. چونکہ این جی اوز کا باقاعدہ آڈٹ حکومتی نگرانی میں نہیں ہوتا تو کرپشن کرنے والے مافیا کے لیے این جی او کسی بڑی سہولت سے کم نہیں. این جی اوز کے ذریعے سے وہ اپنا سارا کالا پیسہ سفید کر لیتے ہیں. دوسری جانب عوام کشکول پھیلائے ان این جی اوز کی طرف دست سوال دراز کیے رکھتی ہے. جس کے نتیجے میں حقیقی محتاج بھی محروم ہو جاتے ہیں. سارا صدقہ اور خیرات وہ لوگ لے اڑتے ہیں جو درحقیقت اس کے مستحق بھی نہیں ہوتے.

Created using DALLE.3
Exploiting Our Social Norms:
There is no doubt that wealthy people in Pakistan spend generously to help the poor and needy. Naturally compassionate, Pakistanis likely engage in more charitable work than any other nation. Recently, during the holy month of Ramadan, we observed numerous free food stalls on streets, intersections, neighborhoods, and towns. Wealthy Muslims spent lavishly to share Eid-ul-Fitr's joy with the poor. Daily, millions of rupees are spent on charitable activities in Karachi alone, with people donating generously. However, some fraudulent individuals exploit this generosity. We often see able-bodied people pretending to be disabled to beg. People hide their assets to consume the share meant for the deserving. Some even establish foundations to collect funds only to use the money for personal gains. When donors realize their contributions are misused, they become disillusioned and cease their charitable activities, affecting the truly needy.
ہمارا معاشرتی شعار اور اس کا ناجائز فائدہ:
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مالدار لوگ غریبوں اور ناداروں کی امداد کے لیے بے بہا پیسہ خرچ کرتے ہیں. ہم فطرتی طور پر نرم دل واقع ہوئے ہیں. اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان سے زیادہ خیراتی کام کسی اور ملک میں ہوتے ہوں گے. ابھی حال ہی میں رمضان المبارک کے مقدس مہینوں میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ ہر سڑک، چوراہے، گلی، محلے اور ٹاؤن میں جابجا دسترخوان لگائے گئے. عید الفطر کی خوشیوں میں غریبوں کو شریک کرنے کے لیے مالدار مسلمانوں نے خوب خرچ کیا. روزانہ کی بنیاد پر صرف شہر کراچی میں کروڑوں روپے کی خیراتی سرگرمیاں وجود پذیر ہوتی ہیں اور لوگ دل کھول کر خرچ کرتے ہیں. لیکن بعض دھوکے باز لوگ اس دریا دلی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں. آئے روز ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں کہ صحیح سلامت ہاتھ پیر رکھنے والے لوگ خود کو معذور ظاہر کرکے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں. لوگ اپنے اثاثہ جات چھپا کر کسی مستحق کا مال کھا جاتے ہیں. حتیٰ کہ فاؤنڈیشن کے نام پر فنڈ لے کر سارا پیسہ خود ہی کھا جاتے ہیں. جب خرچ کرنے والے کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا مال مصرف میں نہیں لگا تو وہ مایوس ہو جاتا ہے. چنانچہ وہ امدادی سرگرمیاں بند کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے سفید پوش لوگوں کی مالی معاونت بھی بند ہو جاتی ہے. مجھے یہاں پر اپنی وہ پچھلی بلاگ یاد آگئی جس میں میں نے ایک عرب قبیلے کے سردار کا تذکرہ کیا تھا. جسے بظاہر ایک مجبور نظر آنے والے شخص نے ڈاکو بن کر لوٹ لیا تھا. ہمارے معاشرے میں بھی کئی ایسے افراد موجود ہیں جو اپنی مظلومیت دکھا کر ناجائز پیسہ لوٹ لیتے ہیں حالانکہ وہ حقیقی مستحق نہیں ہوتے. اسی وجہ سے پھر انہیں پکڑنے کے لیے اصول و ضوابط بنانے پڑتے ہیں.

Created using DALLE.3
The Rise of Begging:
Begging is an addiction; once someone succumbs to it, they abandon hard work and solely rely on begging for a living. Some have made it a profession, with an average beggar easily collecting five to six thousand rupees a day. To the public, they appear homeless and destitute, evoking sympathy and generous donations. You might have heard that in India, a beggar's hut caught fire, revealing millions of rupees that turned to ashes. The greed for money is an addiction that grows over time. Those who indulge in ill-gotten wealth develop a habit of lying and committing moral wrongs to sustain their income. Thus, beggars keep an eye on charitable activities and do not miss any opportunity, leading to a decline in the number of hard-working individuals and a steady rise in begging.
گداگری کا فروغ:
گداگری ایسی لت ہے کہ ایک دفعہ جسے لگ جائے پھر وہ ساری زندگی محنت مزدوری سے قطع تعلق ہو کر صرف مانگ کر کھاتا ہے. بعض لوگوں نے تو اسے باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کر رکھا ہے. ایک عام گداگر دن میں 5 سے 6 ہزار بآسانی جمع کر لیتا ہے. لوگوں کی نظر میں تو وہ بے گھر اور مجبور ہوتا ہے اس لیے لوگ اس پر ترس کھا کر اس کی بڑھ چڑھ کر امداد کرنے کی کوشش کرتے ہیں. آپ نے شاید سنا ہو کہ انڈیا میں ایک بھکاری کے گھر پر جب آگ لگی تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بھکاری کی جھونپڑی سے لاکھوں کروڑوں روپے برآمد ہوئے جو جل کر خاکستر ہو گئے. مال کمانے کی ہوس ایسی عادت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے. حرام مال کھانے والوں کو ایسی عادت ہو جاتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی پھر رک نہیں پاتے اور کوشش کرتے ہیں کہ جہاں سے ملے جیسا ملے چاہے جھوٹ بولنا پڑے، کسی بھی قسم کی اخلاقی برائی کا ارتکاب کرنا پڑے وہ کر گزرتے ہیں. تو اس لحاظ سے فلاحی تنظیموں کی خیراتی سرگرمیوں یعنی فنڈنگ اور ڈونیشن پر ایسے بھکاریوں کی خصوصی نظر ہوتی ہے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں محنت مشقت کرنے والوں کی تعداد گگٹ رہی ہے اور گداگری آہستہ آہستہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے.

Created using DALLE.3
The Need for Reform:
It is imperative that before giving money to someone claiming to be in need, we verify their legitimacy. Moreover, if you genuinely want to help a poor person, instead of giving them a few rupees and feeling superior, provide them with a sustainable means of employment. Those driven by circumstances do not shy away from hard work for themselves or their loved ones. Temporary help may bring joy, but enabling someone to stand on their own feet and become self-reliant is far better than leaving them perpetually dependent. I urge all donors to teach the needy to earn a living honestly, so they never feel the need to beg. This is the true essence of helping.
ضرورت اصلاح:
ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہم کسی مستحق کو مال دینا چاہیں تو پہلے اس کی تحقیق کر لیں کہ آیا واقعی یہ مستحق بھی ہے یا نہیں؟ اور دوسری بات یہ کہ اگر آپ واقعی کسی غریب کی امداد کرنا چاہتے ہیں تو بجائے اسے دو چار روپے دے کر احسان جتلانے کے اسے مستقل بنیادوں پر روزگار مہیا کر دیجیے. جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے، وہ اپنے لیے اپنے پیاروں کے لیے کسی قسم کی محنت مشقت کرنے سے نہیں کتراتا. کسی کی عارضی مدد کر دینا بھی اسے خوشی دے سکتا ہے مگر کسی کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دینا، اسے مستقل بنیادوں پر روزگار دے دینا، اسے خود کفیل بنا دینا، یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اور اس کا خاندان زندگی بھر کے لیے کسی کے آسرے کا انتظار کریں. میں سب خرچ کرنے والوں سے یہی استدعا کرتا ہوں کہ آپ اگر کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اسے حلال طریقے سے کمانا سکھائیں. تاکہ اسے زندگی بھر کے لیے کسی سے مانگنے کی حاجت محسوس نہ ہو. دراصل یہی حقیقی امداد ہے.
Join Binance through THIS LINK for 10% off trading fees! Let's save together!
ٹریڈنگ فیس میں 10% چھوٹ کے لیے اس لنک کے ذریعے بائننس میں شامل ہوں! آئیے مل کر بچائیں!