Greeting
Mother? Who is a mother in your language.A lady who is your servent? Or a lady who is a Cook? Or a lady who is just a burden.?
[SOURCE](https://pixabay.com/photos/mother-old-woman-tenderness-5374622/)
ماں کون ہے ماں ایک وہ عورت جو ساری زندگی ہمیں پالتی ہے پوستی ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں ماں کون ہے وہ عورت جو صرف ایک غلام کی طرح سارا دن گھر میں کام کرے وہ عورت جو صرف اور صرف تم لوگوں کی غلام ہے وہ عورت جو تمہارے لیے کبھی کک ہے کبھی غلام ہے کبھی دھوبی ہے کبھی صفائی والی ہے
کون ہے ماں
Who is a mother? A mother is a woman who nurtures us all our lives. And when we grow up, who is a mother? Who is a woman who works like a slave in the house all day? A woman who is only a slave to you people. That woman who is sometimes a cook for you, sometimes a slave, sometimes a washerwoman, sometimes a cleaner, who is your mother?
ایک عورت تھی اس کی شادی ہے غریب گھرانے میں ہوئی چند سال بعد اس کے ہاں ایک بیٹا ہوا اس نے اپنے بیٹے کے لیے بہت کچھ کیا چونکہ وہ ایک غریب گھرانے میں رہنے والی تھی اس کا شوہر ایک غریب تھا تو پھر بھی اس نے اپنے بیٹے کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کیا وہ خود گیلے میں سوتی لیکن اپنے بیٹے کو سوکھے میں سکھا سلاتی وہ خود بھوکی رہ لیتی لیکن اپنے بیٹے کو تین وقت کا کھانا کھلاتی وہ خود ظلم و ستم سردی گرمی سب برداشت کرتی لیکن اپنے بیٹے کو ہر وقت کا سکون سکون سکون مہیا کرتی
There was a woman. She was married in a poor family. After a few years, she had a son. She did a lot for her son. She did everything to fulfill every desire of her son. She herself used to sleep in wet but taught her son in dry. She would provide peace and tranquility to her son at all times
اسی طرح مہینے گزرے سال گزرے اس کا بیٹا دو سال کا ہو گیا وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ بولنے لگا ایک دن اس نے ایک جانور دیکھا اور اپنی ماں سے پوچھا ماں یہ کون ہے تو اس کی ماں نے اسے جواب دیا کہ بیٹا یہ بلی ہے جانور کو دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا وہ بچہ تھا وہ اس کی طرف اٹریکٹ ہوا تھوڑی دیر بعد پھر اس نے پوچھا ماں یہ کون ہے ماں نے پھر جواب دیا بیٹا یہ بلی ہے بچہ کھیلتا گیا اور بار بار ایک ہی الفاظ پوچھتا گیا اور ماں نے اس کو ہر بار بڑے پیار سے جواب دیا
In the same way months passed years passed his son became two years old he was able to speak one day he saw an animal and asked his mother who is this mother then his mother replied that son He was very surprised to see the animal that is a cat. It was a child. He was attracted to it. After a while, he asked, "Mother, who is it?" Then the mother replied, "Son, it is a cat." The child kept playing and asking the same words over and over again. And the mother answered him every time with great love
اسی طرح ماں اس کے بے تکے اور کئی بار ایک ہی پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب دیتی ہوں دن گزرے مہینے گزرے اسی طرح سال گزر گئے بیٹا جوان ہو گیا ماں نے سوچا کیوں نہ بیٹے کی شادی کر دی جائے کئی سال بعد بیٹے کی شادی کر دی گئی یہ وہی بیٹا تھا جس کے لیے ماں گیلے میں سوتی رہی یہ وہی بیٹا تھا جس کے لیے ماں خود بھوکی رہتی رہی تاکہ ایک دن یہ بڑا ہو کر کچھ بنے اپنے لیے کچھ کمائے ایک سکون کی زندگی گزارے ماں کو اولاد سے کوئی مفاد نہیں ہوتا وہ صرف اپنی اولاد کو خوش دیکھنا چاہتی ہے
In the same way, the mother answers his random and repeated questions. The days passed, the months passed, the years passed, the son became young. It was done. This was the son for whom the mother slept in the wet. This was the son for whom the mother herself remained hungry so that one day he would grow up to become something, earn something for himself and live a peaceful life. She has no interest, she just wants to see her children happy
شادی کے بعد ایک نیا فرد ان کے گھر میں ایا جو کہ اس بیٹے کی بیوی کہلاتی تھی ماں اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے ہر وہ کام کر جاتی بیٹا جوان ہوتا گیا جب ماں اس عمر میں پہنچی کہ ابو سے سب سے زیادہ اس کے بیٹے کی ضرورت تھی تو بیٹے صرف اپنی بیوی اپنے بچوں اور اپنی فیملی میں مگن تھا ایک دن اچانک ماں کی طبیعت بہت خراب ہو گئی اور وہ تڑپنے لگی اس نے اواز دی بیٹا لیکن اگے سے کوئی جواب نہیں ایا اس نے پھر سے اواز دی بیٹا اب ایک زوردار اواز چیختی ہوئی ماں کے کانوں میں پڑی کیا ہے بڑھیا کیوں دماغ کھا رہی ہو دکھتا نہیں میں اپنی بیوی کے ساتھ باہر جا رہا ہوں یہ ہے ماں
After the marriage, a new person came to their house, who was called the son's wife. The mother did everything for the happiness of her son. The son was only busy with his wife, his children and his family. One day suddenly the mother's health became very bad and she started to cry. She called her son but there was no response. A loud voice screamed in the ears of the mother, what is it, old lady, why are you eating your mind, I am going out with my wife, this is it, mother.
ماں کی انکھوں سے انسو زار و قطار جاری ہو گئے وہ رونے لگی اسے یاد انے لگا وقت جب اس سے ایک سوال بار بار پوچھا جاتا تھا خیر ماں نے کچھ نہیں کہا اور اس کا بیٹا اور بیوی باہر چلے گئے جب گھر ایا تو ماں بخار میں لت تڑپ رہی تھی وہ صرف ایک فورمیلٹی پوری کرتا اسے ہسپتال لے گیا اور وہاں جا کر اسے ڈانٹنے لگا غصہ کرنے لگا کہ کیا یار تماشہ بنایا ہوا ہے روز روز کا کبھی یہ ہو گیا کبھی وہ ہو گیا اپنے بیٹے کو سکون سے جینے مت دینا
Tears started flowing from the mother's eyes and she began to cry. She remembered the time when she was asked a question again and again. Well, the mother did not say anything and her son and wife went out. I was suffering from addiction, he just completed a formality, took him to the hospital and went there and started scolding him and started getting angry saying, is this a joke, everyday, sometimes this happened, sometimes that happened, don't live your son in peace. to give
ماں کا زبر ٹوٹا اور بولی بیٹا یاد کر وہ وقت جب تو چھوٹا سا تھا تجھے بخار ہوتا تھا تو میری جان جاتی تھی میں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ میں تیری دوائی لا سکوں میں ہسپتالوں میں دھکے کھاتی یہاں وہاں کے ٹوٹکے کرتی روتی دن رات تیرا خیال رکھتی صرف اس لیے کہ تو ٹھیک ہو جائے مجھ سے تیری تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی جب تو مجھ سے پوچھتا تھا ماں یہ کیا ہے تو میں تجھے بتاتی بار بار بتاتی اب تجھے ایک اواز دوں تو تو کہتا ہے ماں جان چھوڑ کیا یہی ہے میرا درجہ کیس اج کے دن کے لیے میں نے تجھے پیدا کیا تھا
The mother broke down and said, "Son, remembering the time when you were little, you used to have a fever. I used to die. I didn't have enough money to bring you medicine. I used to push myself in hospitals and cry here and there." I used to take care of you day and night just to make sure that you get well. When you used to ask me what is it, mother, I would tell you again and again. Is this my rank? For this day I created you۔
بیٹے کو مزید غصہ ایا بیوی کی باتوں میں ا کر اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا اور دھکے دیتے اسے گھر سے باہر نکال دیا کئی روز ماں روتی تڑپتی سڑکوں پر دھکے کھاتی رہی کئی روز بعد اسے خبر ملی کہ اس کی ماں اس دنیا سے چل بسی وہ کتنا بے بس تھا مجبور تھا وہ اپنے ماں کی اخری وقت میں اس کے پاس نہیں تھا اس کی خدمت نہیں کر سکا تھا اور اس بات کا اس بیٹے کو کوئی افسوس نہیں تھا افسوس
The son became even more angry at his wife's words, so he grabbed his mother's hand and pushed her out of the house. For many days, the mother kept crying and pushing on the streets. He died, how helpless he was, he was forced, he was not with his mother in her last moments, he could not serve her, and this son had no regrets.
کئی دن گزرے مہینے گزرے اس بیٹے کی بھی اولاد جوان ہوئی پھر اس ان کی بھی شادیاں ہوئیں اور اج کئی سالوں بعد جو وقت اس نے اپنی ماں کو دیا جو غم اس نے اپنی ماں کو دیا اجوہی غم اس کی اولاد اس کو دے رہی ہے یہ دنیا ہے یہ اس کا دستور ہے یہاں مکہ فات عمل ہوتا ہے جو بیج بو گے اسی کو کاٹو گے تم گندم کا بیج بوک کر چاول نہیں کاٹ سکتے جیسا کرو گے ویسا ہی بھرو گے کیا یہ ہیں اج کے دور میں ہماری ماؤں کے مقام کیا تمہیں اتنا بھی پتہ ہے کہ جب ماں ایک بچے کو پیدا کرتی ہے تب اس کے جسم کی تمام ہڈیاں ٹوٹ جائیں اس سے بھی زیادہ وہ تکلیف کا سامنا کرتی ہے وہ تمہیں اس دنیا میں لانے کے لیے اپنی جان تک کا نہیں سوچتی وہ تمہیں اس دنیا میں لانے کے لیے اپنی جان تک کو گوانے کے لیے تیار ہوتی ہے
Many days passed, months passed, this son's children also became young, then they also got married, and after many years, the time that he gave to his mother, the grief that he gave to his mother, the same grief that his children are giving to him. This is the world, this is its constitution. This is where Makkah Fatah takes place. What you sow is what you will reap. You cannot sow wheat and reap rice. Do you even know that when a mother gives birth to a child, all the bones in her body are broken, she suffers more than that, she does not even think of her life to bring the child in this world.
ما اس چیز کی تو حقدار نہیں کیا وہ بچے کو اس دنیا میں اس لیے لاتی ہے کہ ماں کی نافرمانی کی جائے کیا ماں اس چیز کا حق رکھتی ہے کیا اس دنیا میں ماں کے قسمت میں صرف رونا نافرمانی بدتمیزی ہی ہے
Mother is not entitled to this thing, does she bring the child into this world so that the mother is disobeyed? Does the mother have the right to this thing?
خیر تب اس بیٹے کے ذہن میں بار بار وہی باتیں گھومنے لگی کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ کیا کیا میں اس کے پاس پچھتانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اس نے اپنی دنیا اخرت دونوں خراب کر لی
Well, then the same things began to repeat in the mind of this son that what he did to his mother, he had nothing but regret, he ruined both his world and the hereafter.
خدارا اپنی ماں کی عزت کریں ان کی حفاظت کریں انہیں وہ دنیا کی ہر خوشی مہیا کرنے کی کوشش کریں جو اس نے اپ کو مہیا کی ماں کے عظمت کے بارے میں ماں کے پیروں کے تلے جنت ہے ماں کے بارے میں جو کہیں میرے پاس تو الفاظ بھی کم ہیں
God, respect your mother, protect her, try to provide her with all the happiness in the world that she has provided for you. Words are also less.
I can'nt exolain the condition of a mother now a days...😭😭