جو کہتے ہیں
کہ انسان کو انسان کی ضرورت نہیں،
بس خواہش کافی ہوتی ہے,
وہ شاید زندگی کو صرف گزارنے کے معنی میں سمجھتے ہیں۔
جیسے ایک پھول
اکیلا بھی پانی، ہوا اور سورج کے سہارے
سانس تو لے سکتا ہے،
مگر معنی اسے باغ میں ملتے ہیں،
جہاں وہ اپنے جیسے وجودوں کے درمیان
لہرانا سیکھتا ہے۔
اسی لیے انسان بھی
محض بقا کے لیے نہیں آیا،
وہ تعلق میں اپنی صورت پہچاننے،
اور ایک دوسرے کے ساتھ
زیادہ انسان بننے آیا ہے۔