ہر روز صبح کے وقت انارکلی کے نیلا گنبد کے سامنے اس طبی درسگاہ کے سفید گنبد سے جب روشنی پھسل کر انارکلی کی زمین پر آ گرتی ہے تو کاروبار جہاں رواں ہو جاتے ہیں اسی اثنا میں میں اور میرے چند ساتھی شاید کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد کا حصہ بن جاتے ہیں صبح ہوتے ہی ہماری روانگی ہاسٹلز سے سیدھا اٹینڈس حال کی طرف ہوتی ہے جہاں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی کا یہ دن پھر نئے چیلنجز لے کر انے والا ہے یہ میری طبی سند کا حتمی سال یعنی فائنل ایئر ہے اور اس سال نے جو تبدیلیاں میرے جذبات خیالات اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں لائی شاید وہ تبدیلیاں ماضی کی پوری زندگی میں بھی نہ ا سکی اب سکٹزو فرینیا کسی ایک طبی کیفیت طاری رہتی ہے کہ جس میں خود مجھے نہیں پتہ چل پاتا کہ میں خوش کب ہوں اور اداس کب ویسے تو یہ لمحہ ہر میڈیکل کے طالب علم کی زندگی کا حصہ ضرور بنتا ہے لیکن میرے لیے یہ تب اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب میں اسے اپنے سب سے قریبی رشتے یعنی اپنے والد سے شیئر نہیں کر پاتا میری بد نصیبی یہ ہے کہ میری کم عمری میں ہی وہ اس جہاں کو چھوڑ کر چلے گئے ان کا چھوڑنا گویا یوں تھا جیسے مجھ سے میرے خیالات اور ایسا ساتھ کچن جانا جو میں کبھی ان کو بتاتا وہ مجھے ڈانٹتے نصیحت کرتے حل بتاتے اور میری باہم جوئی کرتے لیکن شاید قدرت کو ایسا منظور ہی نہ تھا.
چہروں کے پیچھے اکثر کئی دکھ چھپے ہوتے ہیں لیکن میرے یہ دکھ تب خوشی میں تبدیل ہو جاتے ہیں جب چند احباب گلے مل کر ان سارے غموں کو جذب کر لیتے ہیں میں خود کو خوش قسمت اس لیے کہتا ہوں کہ میرے دائرہ احباب میں انافراد کی ایک طویل فہرست کنند ہے کہ جنہوں نے زندگی کے کئی مواقع پر میرا ممکنہ ساتھ دیا وہ میری خوشیوں میں بھی شریک تھےاور غموں میں بھی انہوں نے میرا ساتھ نہ چھوڑا لیکن وہ مایوسی اور وہ کیفیت جس کا ذمہ دار بھی میں خود ہوں مجھ سے یہ سوال کرتی ہے کہ اگر اج میرے والد صاحب ا کر میرے سامنے کھڑے ہو جائیں تو کیا میں ان کو یہ جواب دے پاؤں گا کہ میں زندگی کے اس مقام کی طرف بڑھ رہا ہوں اس مقام کی انہیں مجھ سے امید ہونی چاہیے بلا شبہ میں ایک ممتاز درسگاہ کا حصہ تو ہوں لیکن کیا اپنے خیالات سے میں خوش بھی ہوں.
شاید نہیں اور شاید ہاں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بات کا جواب میں ڈھونڈنے نہیں نکلا ہوں بلکہ اس بات کا جواب تو میں تعمیر کرنے نکلا ہوں کیونکہ اخر کار قسمت ہو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھ میں ہی رکھی ہے نا تو یہ ہم پر انحصار کرتا ہے کہ ہم اپنی قسمت کو کس جانب موڑیں کیونکہ اخر کوئی تو ایسی نیکی تھی کہ جس کی بدولت مجھے ایک عظیم مقام کا حصہ بننے کا موقع ملا.
میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں کہ زندگی ہمیں کبھی بھی راستہ نہیں دکھاتی بلکہ ایک خاص مقام کے اشارے ضرور دیتی ہے بس ان اشاروں کو ہی سمجھنا ہمارے لیے سب سے پہلا کام ہے اور میں اس خیال میں بھی ڈوبا رہتا ہوں کہ اگر زندگی مجھے سانس لینے کا موقع دے ہی رہی ہے تو میں کیوں اسے بہتر نہیں بنا رہا میں کیوں زندگی میں اگے نہیں بڑھ رہا میں کیوں لوگوں سے پیچھے ہوں کیوں میری سوچ دوسروں سے مختلف ہے کیوں میں ہنستا تو رہتا ہوں لیکن پھر بھی اندر سے مایوس ہوتا چلا جا رہا ہوں حالانکہ میں کبھی ایسا نہ تھا پھر یہ خیال میرے دل میں اتا ہے کہ میں اپنے اس مقصد سے دور جا رہا ہوں کہ جس مقصد سے میرے والد صاحب مجھے دیکھنا چاہتے تھے وہ مجھے ایک اچھا انسان دیکھنا چاہتے تھے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ سفید کوٹ پہنے لوگوں کے جذبات اور احساسات کو اپنے اندر سمو کر اس ارزو کی کوشش تو کروں.
یہ میرا فائنل ایئر ہے لیکن اس کے ساتھ جڑے خواب صرف میرے ہی نہیں ہیں بلکہ ان خوابوں کے ساتھ وہ انکھیں بھی جڑی ہوئی ہیں جنہوں نے میری انکھوں میں انسو نہ لانے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں کی میں خود کو ایک ایسا مسافر سمجھتا ہوں کہ جو ٹوٹا ہے پر جھکا نہیں جو احساسات کی لپیٹ میں ضرور ایا ہے مگر کبھی بھی بکرا نہیں لیکن میری دوسری کیفیت جو مجھے سکڈز و فرینیا کا ایک مریض کہلوانے پر مجبور کرتی ہے مجھے اس بات پر زور دیتی ہے کہ میں اس پورے تماشے سے نکل جاؤں لیکن ساتھ ہی ساتھ جو امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں اور جو خیالات اور انکھیں میری راہ دیکھ رہی ہیں وہ مجھے ہمت اور حوصلہ اس بات کا دیتے ہیں کہ ایک دن میں پھر اٹھ کر ایک عام زندگی ضرور جی پاؤں گا بس میرا یہی اک خواب ہے.
https://www.instagram.com/adnan_raaajput/
Follow for more