سلسلہ درسِ ضیاءالقران
از حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علیہ الرحمۃ
قسط 97 سورہ البقرة آیت نمبر 143
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (143)
ترجمہ:
اور اسی طرح ہم نے بنا دیا تمہیں (اے مسلمانو!) بہترین امت تاکہ تم گواہ بنو لوگوں پر اور (ہمارا) رسول تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا ہم نے (بیت المقدس کو) قبلہ جس پر آپ (اب تک ) رہے مگر اس لئے کہ ہم دیکھ لیں کہ کون پیروی کرتا ہے (ہمارے) رسول کی (اور) کون مڑتا ہے الٹے پاؤں بےشک یہ (حکم ) بہت بھاری ہے مگر ان پر (بھاری نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی اور نہیں اللہ کی یہ شان کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت ہی مہربان (اور) رحم فرمانے والا ہے
تفسیر:
یعنی جیسے ہم نے قبلہ کے معاملہ میں تمہیں راہ راست اختیار کرنے کی توفیق بخشی اسی طرح ہر معاملہ میں تمہیں امت وسط بنایا۔ وسط کا لفظ قابل غور ہے۔ اس کا معنی ہے درمیان۔ ہر چیز کا درمیانی حصہ ہی اس کا عمدہ ترین حصہ ہوا کرتا ہے۔ انسان کی زندگی کا درمیانی عرصہ ’’عہد شباب‘‘ اس کی زندگی کا بہترین وقت ہے۔ دن کا درمیانی حصہ دوپہر ہے جس میں روشنی اپنے نقطہ عروج پر ہوتی ہے۔ اسی طرح اخلاق میں میانہ روی قابل تعریف ہوتی ہے۔ افراط وتفریط دونوں پہلو مذموم۔ بخل اور فضول خرچی کی درمیانی حالت کو سخاوت ، بزدلی اور طیش کے درمیانی حال کو شجاعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اس عظیم المرتبت خطاب سے سر فراز فرمایا۔ ان کے عقائد، ان کی شریعت، ان کے نظام اخلاق، سیاست اور اقتصاد میں افراط وتفریط کا گزر نہیں۔ یہاں اعتدال ہے توازن ہے موزونیت ہے ۔ جب مسلمانوں کو اپنے اس عظیم منصب کا پاس تھا اس وقت ان کا ہر قول اور ہر فعل آئینہ تھا اس ارشاد ربانی کا۔ لیکن آج تو ہم یوں بگڑ چکے کہ قرآن میں جس امت کے محاسن بیان کئے گئے ہیں ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ وہ ہم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرماوے۔ آمین۔
(لتکونوا شہداء)امت محمدیہ گواہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کی گواہی اسلام کی صداقت پر ہے۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات کی وہ زندہ تصویر ہے۔ دنیا میں اس کا ہر قول ہر فعل اس کی انفرادی اور اجتماعی خوشحالی، اس کی سیرت کی پختگی اور اس کے اخلاق کی بلندی ہر چیز اسلام کی صداقت پر گواہی دے رہی ہے۔ اور قیامت کے روز جب اگلے پیغمبروں کی امتیں اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کریں گی کہ ہمیں کسی نے تیرا پیغام ہدایت نہیں پہنچایا تو اس وقت امت مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) گواہی دے گی کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ تیرے پیغمبروں نے تو تیرا پیغام حرف بحرف پہنچا دیا تھا۔ اور جب ان پر اعتراض ہوگا کہ تم اس وقت موجود ہی نہ تھے تم گواہ کیسے بن گئے تو یہ جواب دیں گے کہ اے اللہ! تیرے حبیب محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں بتایا کہ تیرے رسولوں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اپنی امت کی صداقت وعدالت کی گواہی دیں گے۔ کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے امتیوں کے حالات سے پورے واقف ہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں تحریر فرماتے ہیں:۔
باشد رسول شما برشما گواہ زیر انکہ او مطلع است بنور نبوت بر رتبہ ہر متدین بدین خود کہ در کدام درجہ در دین من رسیدہ وحقیقت ایمان او چیست وحجابے کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است پس اومے شناسد گناہان شما راو درجات ایمان شماراو اعمال نیک وبد شمارا واخلاص ونفاق شمارا۔
ترجمہ:۔ تمہارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواہی دے گا ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں اپنی نبوت کے نور سے اپنے دین کے ہر ماننے والے کے رتبہ کو کہ میرے دین میں اس کا کیا درجہ ہے؟ اور اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ اور وہ کونسا پردہ ہے جس سے اس کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ پس وہ تمہارے گناہوں کو بھی پہچانتے ہیں۔ تمہارے ایمان کے درجوں کو، تمہارے نیک اور بد سارے اعمال کو اور تمہارے اخلاص اور نفاق کو بھی خوب پہچانتے ہیں۔
(وما جعلنا)سولہ سترہ ماہ کے لئے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے اور پھر کعبہ کو حسب سابق قبلہ بنا دینے کی ایک حکمت بیان فرمائی جا رہی ہے کہ وہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بےچون وچرا اطاعت کرتے ہین ان لوگوں سے ممتاز اور علیحدہ ہو جائیں جو بات بات پر اعتراض کرنے اور اپنی عقل کی سند حاصل کرنے کے خوگر ہیں۔ لنعلم کا عام معنی تو یہ ہے ’’تاکہ ہم جان لیں‘‘ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ پہلے ان کو نہیں جانتا۔ اس لئے علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے سید الفصحا وامام البلغاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لنعلم کا معنی لنری نقل کیا ہے یعنی جو چیز ہمارے علم ازلی میں قدیم سے ہے اسے وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھ لیا جائے۔ والعرب تضع العلم مکان الرویۃ والرویۃ مکان العلم ۔ یعنی اہل عرب لفظ علم رؤیت (یعنی دیکھنے ) کے معنی میں اور رؤیت علم کے معنی میں عام استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے اب کوئی اشکال نہ رہا۔
مطیع اور معترض کی پہچان کے سوا تحویل قبلہ میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ اس سے اس امر کا اعلان مقصود ہے کہ اب سیادت اور نبوت بنی اسرائیل سے منتقل ہو کر اولاد اسمٰعیل میں آگئی۔ اسی لئے کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔
(وماکان اللہ لیضیع)
بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم کو یہ خیال گزرا کہ جو مسلمان بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھتے رہے اور تحویل قبلہ سے پہلے انتقال کر گئے ان کی نمازیں تو ضائع ہو گئیں۔ ان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کر تے رہے۔ اس لئے ضائع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
والسلام