اردو اتنی وسیع زبان ہے کہ نہ صرف اپنے اندر شاعری اور مکالمہ نگاری کی لازوال تاریخ رکھتی ہے بلکہ کئی شہروں خصوصا دہلی کلکتہ اور لاہور کو بھی پورے کا پورا اپنے اندر سم ہو چکی ہے. اج بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ماضی کی یادوں میں اردو کے مایا ناز نصر نگار پترس بخاری کا عکس دکھا وہی پترس بخاری جنہیں میں نے کبھی فرسٹ ایئر کی اردو کی کتاب میں ایک مضمون لاہور کا جغرافیہ کی شکل میں پڑھا. میرا کلام ان کے اس مضمون سے تو نہیں لیکن اس مضمون میں بحث کیے گئے ان فیکٹرز سے ضرور ہے جو کاش اگر اج لاہور کی اب و ہوا میں ہوتے تو لاہور کا شہر دنیا کے باقی شہروں سے قدر مختلف ہوتا. پطرس بخاری صاحب نے اپنے اس مضمون میں لاہور کا جغرافیہ کچھ اس طرح سے بیان کیا تھا کہ لاہور دنیا میں ایک ایسا شہر ہے جس کے بارے میں اب لوگوں سے پوچھنے یا اسے نقشے پر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور جو شخص لاہور کا جغرافیہ نہیں جانتے بزرگوں کے مطابق وہ جاہل ہیں اور علم کا علم ناقص ہے کیونکہ لاہور لاہور ہے. خیر اس طرح کے الفاظ اور جملوں کی ایک طویل فہرست سے انہوں نے لاہور کا جغرافیہ بڑے میٹھے انداز میں بیان کرنے کی کوئی کسر تو نہ چھوڑی بلکہ ساتھ ہی ساتھ لاہور کی خوبیاں اور خامیاں کچھ اس انداز میں بیان کی کہ خامیاں بھی گویا خوبیاں لگنے لگی بہرحال اس مضمون میں بحث کیا گیا شہر لاہور معلوم ہوتا ہے لیکن جب اج نیلا گنبد کے ساتھ انارکلی کی لمبی گلی میں اپنا قدم میں رکھتا ہوں تو کتابوں میں پڑھا گیا لاہور معلوم نہیں پڑتا.
ابھی چند دن قبل کوک سٹوڈیو کے سیزن 15 کے ایک مشہور گانے مگرو لے کے بیہائنڈ دا سین دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک شخص لاہور شہر یعنی اندرون لاہور شہر کی کچھ اس طرح تعریف کر رہا تھا کہ یہ ایک ایسا شعر ہے جہاں پر لوگوں کے گھر اپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں ان کی بالکنیوں کی کھڑکیاں ایک دوسرے کے بہت قریب رہتی ہیں لیکن ان کی پرائیویسی کبھی بھی دوسرے شخص پر عیاں نہیں ہو پاتی یہ ایک ایسا شہر ہے جو کہ پوری دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتا. اب اس کو دیکھ کر میں سوچوں کہ کیا واقعی میں لاہور ایک ایسا شہر ہے کہ جو پوری دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتا کیونکہ اج کل لاہور اپنی تہذیب کھوتا جا رہا ہے اور کچھ اس طرح سے کہ لاہور کی پرانی شاہی طرز پر بنائی گئی عمارتیں اج کل ماڈرن زمانے کی اسمان کو چھوتی یعنی اس کا ایک کریپر منزلوں کی شکلیں اختیار کرتی جا رہی ہیں لاہور ایک ایسا شہر ہے جو کہ ہر روز جدت اور ترقی کی طرف سفر بڑی تیزی سے طے کر رہا ہے اب جدت اور ترقی کی سفر کرنے میں کوئی برائی تو نہیں لیکن اپنی تہذیب اور اپنا کلچر چھوڑ کر ان چیزوں کی طرف بڑھنا میرے خیال میں بڑی معیوب بات ہے. مسجد لاہور شائقلہ لاہور شالہمار باغ اور کئی دیگر قدیم سیاحتی مقام یقینا مغلوں کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ ہیں اور ہماری حکومتوں نے ان میں سے چند ایک کی حفاظت کے لیے کوئی کسر بھی نہ چھوڑی لیکن عام لوگوں نے اس میں کوئی خاص کردار ادا نہ کیا لاہور کی لسی لاہور کے پائے اور مہمان نوازگی شاید ہی دنیا میں کسی شخص کو کسی اور جگہ نصیب ہو کیوں کیونکہ بھائی وہ سب کچھ لاہور میں ملتا ہے نا اور لاہور سے دنیا میں دوسرا نہیں ہے خیر لاہور تیزی سے دنیا کے نقشے سے غائب ضرور ہو رہا ہے اگر اپ کو میری ان الفاظ پر یقین نہ ائے تو ذرا پرانے لاہور سے نکل کر نئے لاہور کی طرف تو ائیں کہاں پرانی انارکلی اور کہاں جدید ماڈل ٹاؤن بحریہ ٹاؤن فیصل ٹاؤن اور دیگر علاقہ جات کہاں وہ قدیم شاہی قلعہ اور پرانے پر اسرار مقامات اورکہاں عرفہ ٹاور اور انڈیگو ہائٹ کی بلند و بالا عمارات اور اس پر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اب لوگ بھی خاصے مہمان نواز نہیں مہمان نواز تو کجا شہری اپنی پرانی عادت سے مجبور مسافروں کو مشرقی لاہور سے مغربی لاہور اور پھر شمال و جنوب کے چکر لگوا کر واپس اسی مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے وہ بھٹکے تھے خیر میرے خیال میں یہ خوبی لاہور نے ابھی تک زندہ رکھی ہوئی ہے……….
تصویر مفت ذرائع سے لی گئی ہے۔