فہد علی فہد
صوفیانہ کلام
حجاب کو بے حجاب کر دے،
نقاب کو بے نقاب کر دے..!!
قسم ہے معصومیت کی تُجھ کو،
نظامِ فطرت خراب کر دے..!!
وہ قیس ہی تھا، جو رہا الجھتا،
جیب و داماں کی دھجیوں سے،
میں اُس جُنوں کی تلاش میں ہوں،
جو چاک تیرا نقاب کر دے...!!
اُجال دے میرے دل کی دُنیا،
میرے سکون کو تباہ کر دے..!!
مگر میری التجا ہے تُجھ سے
میری طرف اک نگاہ کر دے..!!
یہ بے حجابی، ہے کیا تماشا،،
مُجھی میں رہ کے، مُجھی سے پردہ،
تباہ کرنا اگر ہے مُجھ کو،
نقاب اُٹھا اور تباہ کر دے....!!!