🌟 "سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ" 🌟
شوال میں 6 روزے
📖 جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہو گا
📚 سورة الانعام: 160
💎 ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں
📚 صحیح مسلم: 2758
🌹 رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے
💠 مسلمان کیلئے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں بہت اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجر و ثواب ہے
📝 رمضان کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے برابر اور شوال کے چھ روزے 60 ایام (دو ماہ) کے برابر ہیں تو اس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے
🍄 شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائد میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ روزے رمضان میں رکھے گئے روزوں کی کمی بیشی اور نقص کو پورا کرتے ہیں، کیونکہ روزہ دار سے کمی بیشی يا گناہ بھی سرزد ہو سكتا ہے۔ اور روزِ قیامت فرائض میں پیدا شدہ نقص نوافل سے پورا کیا جائے گا
⭐️ بہتر یہی ہے کہ عید الفطر کے بعد شوال کے صیام کی ابتداء کر دی جائے کیونکہ رمضان میں صیام کی عادت بنی ہوتی ہے اور عید کے فورًا بعد میں آسانی ہے۔ البتہ تاخیر کرنا جائز اور درست ہے
🌺 شوال کے روزے اکٹھے یا علیحدہ علیحدہ رکھنا صحیح ہے، لہٰذا معمولاتِ زندگی کے حساب سے جسے جیسے آسانی ہو اسی حساب سے روزے رکھ سکتا ہے، البتہ رکھے اسی ماہ میں جائیں گے
📝 جو شوال کے روزے نہ رکھ سکے اس پر کوئی گناہ نہیں
🍄 اگر کوئی حیض، بیماری، سفر یا کسی شرعی وجہ سے رمضان میں روزہ نہ رکھ سکے اس کیلئے بہتر ہے کہ پہلے رمضان کے صیام کی قضاء مکمل کرے اور پھر شوال کے روزے رکھے۔ لیکن یہ واجب و ضروری نہیں کیونکہ رمضان کے روزوں کی قضاء کیلئے اگلے رمضان سے قبل تک کا وقت ہے لیکن بہر حال شوال کے صیام سے قبل رمضان کے صیام کی قضاء بہتر اور افضل ہے
🚨 رمضان کے صیام کی قضاء اور شوال کے صیام ایک ہی دن دونوں کی نیت کر کے رکھنا درست نہیں
💡 "واللہ تعالیٰ اعلم" 💡