امریکه کا افغانستان میں مستقبل بالکل ایک خواجه سرا کی طرح هے . ابهی کچھ عرصه بڑا شور مچائے گا . پاکستان پر حملے کی دهمکی دے گا . پهر امریکه کا ایک نیا صدر آئے گا . قوم سے معافی مانگے گا اور بچی کُچی فوج سوویت یونین کی طرح آنکهیں نیچی کیے هوے خاموشی سے جهازوں میں لد کر واپس لے جائے گا .
ہالی ووڈ کچھ عرصه پہلے بڑے فخر سے افغانستان میں اپنے فوج کی کامیابیوں پر فلیمیں بناتا رها . اب اگر کوئی فلم بن بهی جائے تو سن دو هزار یا اس سے پہلے کی کہانی هوگی کیونکه اس کے بعد تو ساری شرمندگی ، بے عزتی اور بیچارگی کی کہانیاں هی کہانیاں هیں . نه تو کسی انگریزی چینل پر کوئی بات هوگی نه هی کسی ٹاک شو میں ریمبو فلم کا کوئی اینڈنگ میوزک بجے گا .
اور انڈیا تو وهاں سے ایسا غائب هوگا جیسے گنجے کے سر سے بال یا پهر گدهے کے سر سے سینگ . ایک بڑا سا چوهے مار ٹریپ بهارت کے لیے بهی تیار کی گئ هے . بہت جلد وه بهی لگا دی جائے گی .
امریکه ۲۰۰۲ کے بعد سے افغانستان میں بیٹها هے . هر سال نئے نئے دعوے کیے جاتے هیں . کبهی کہا جاتا هے که ڈرون حملے میں اتنا بڑا جنگجو کمانڈر مار دیا که اب دشمنوں کی کمر ٹوٹ چکی هے . کبهی کہا جاتا هے که هماری ریمبو جسی سپیشل کمانڈوز نے آپریشن کر کے سینکڑوں پاکستانی حمایت یافته دهشتگرد مار دیئے اور ان کے چنگل سے کئی معصوم بچوں اور عورتوں کو آزاد کروایا .
امریکه کی افغانستان میں کامیابی ایک ایسا غباره هے جس میں کئ چهید هو چکے هیں . بار بار هوا بهرتے هیں . بار بار هوا نکل جاتی هے . شروع شروع میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مارے جانے پر امریکه میں بڑی عزت دی جاتی تهی . لیکن جهوٹ کب تک چهپایا جا سکتا هے . چلو . سال دو سال تک تو گہرے سے گہرا زخم بهی چهپ جاتا هے لیکن یہاں تو ٹانگیں ، بازو ، عضو تناسل کٹنے کے ساتھ ساتھ اب تو منه بهی کالا هو گیا هے .
اسی کالے منه کو چهپانے کے لیے امریکه کو بهارت کی ضرورت پڑ گئ . پاکستان بهی دل سے یہی چاهتا تها که بهارت کسی طرح افغانستان آ جائے . ظاهر هے بهارت کو تو موقع چاهئے تها افغانستان میں گهسنے کا . بهارت کی تو هو گئی عید . پهر کیا تها . بڑے شوق سے اپنے ایجنٹ کو افغانستان میں تعینات کیا . بہت بڑی انویسٹمنٹ کی گئی لیکن بهارت کو چند عقلمند سیاسی ماهرین نے مشوره دیا که اگر هم نے افغانستان اپنی فوج بهیجنے کی غلطی کی تو پاکستان بهی یہی چاهتا هے اور پاکستان افغانستان کو بهارتی فوج کا شمشان گهاٹ بنا دے گا . فوج بهی مر جائے گی اور اس طرح تو بهارتی معیشت کنگال هو جائے گی . اسی لیے بهارت نے امریکه کی ٹوٹی بجی ٹیکنالوجیکل ذرایع کی گود میں بیٹھ کر پاکستان میں دهشت گردی کرنا شروع کر دی .
پاکستان کو جتنا بهی نقصان اس وجه سے اٹهانا پڑا ، اس کا کوئی اور نہیں بلکه پاکستان کے حکمران ذمه دار هیں . اور پاکستانی عوام کو بهی کوئی دهماکے دار خبر چاهیے هوتی هے . جاگنے کے لیے .
وه خبر ان کو کلبهوشن یادیو کی گرفتاری میں مل گئی . پاکستان عوام اور کلبهوشن کی مد د سے پاک آرمی نے ملک کو تقریباََ دهشت گردوں سے صاف کروایا .
افغانستان کے ساته پاکستان کی ڈهائی هزار کلومیٹر مشترکه سرحد هے . اس لیے امریکه کو اپنی ناکامی چهپانے کے لیے سب سے پہلے جو ملک نظر آتا هے وه هے ...پاکستان
جبکه حقیقت یه هے که اب امریکی فوج خود کابل سے باهر نہیں نکل سکتی . ابهی ایک سال پہلے امریکی ، نیٹو اور افغان آرمی کا مشترکه طور پر افغانستان کے اسّی فیصد علاقوں پر کنٹرول تها لیکن اب یه کم هو کر صرف اٹهاره فیصد ره گیا هے . جی هاں . صرف اٹهاره فیصد حصے پر
اور سب سے مزاحیه بات تو یه هے که امریکه کس منه سے افغانستان میں هونے والے هر حملے کا الزام پاکستان پر تهوپتا هے . حالانکه دنیا کی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی اور ۲۹ طاقتور نیٹو ممالک کے بشمول اور کابل حکومت کی پشت پناهی کے هوتے هوے سوله سال تک ( بقول امریکه ، ناٹو اور افغان حکومت ) پاکستان کے تربیت یافته دهشت گردوں کو شکست نہیں دے سکے . ان کو تو چلو بهر پانی میں ڈوب مرنا چاهیے
جب پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر خاردار تار لگانا شروع کی تو افغانیوں کی تو جیسے پاوں سے زمین پهسل گئ . انہوں نے سوچا که اب هم پاکستان پر یه الزام کیسے لگائیں گے که افغانستان میں دهشت گرد پاکستان سے داخل هوتے هیں .. اور تو اور . افغان حکومت اپنے هی لاکهوں لوگوں کو پاکستان سے واپس لینے کو تیار نہیں . کیوں که اب صرف وهی ایک کیمپس بچے هیں جن کی مد د سے پاکستان میں دهشت گردی ممکن هے اور امریکه کو ڈرون حملے کرنے کا بہانه مل سکتا هے
جو امریکی فوجی جنگ سے امریکه واپس چلے جاتے هیں اور ان کے سامنے جنگ کی اصل حقیقت کهل جاتی هے که افغانستان میں تو انهیں صرف دنیا میں کہیں جنگ و جدل قائم رکهنے اور صرف امریکی اسلحه بیچنے
اور فساد برپا کرنے کیلیے بهیجا جاتا هے تو وه امریکه میں هی اپنے افسروں کو مارنا شروع کر دیتے هیں . جب امریکه میں ایسے واقعات هونا شروع هوے تو امریکی میڈیا نے ایسے فوجیوں کو ذهنی مریض یعنی پی ٹی ایس ٹی ذهنی بیماری کا نام دے دیا . حالانکه یه لوگ شرمندگی ، ذلالت اور ندامت کا شکار هوتے هیں .
....................... کبهی آپ نے پاکستان میں کسی ایسی بیماری کا نام سنا هے ؟
همارے تو اتنے فوجی شهید هوتے هیں . ان کی مائیں عل الا علان کہتی هیں که میرے هزار بیٹے بهی هوتے تو میں وطن پر قربان کرتی . ان شهید فوجیوں کے ماں باپ بهی کبهی پی ٹی ایس ٹی کا شکار نہیں هوے .
آخر یه امریکی فوجی ، ممی اور ڈیڈ کونسے ایسے انسان هیں جو ڈیپریشن میں چلے جاتے هیں اور یه ڈیپریشن اپنے دوستوں پر هی کیوں نکلتا هے ؟ پاکستانی تربیت یافته طالبان دهشتگردوں میں گُهس جائیں ، ان کو بهی مار دیں اور خود بهی مر جائے .. موت کے نام سے تو ان کی جسم سے سرخ کی بجائے پچهواڑے سے پیلا خون نکل جاتا هے جب تک فضائی مد د نه هوں اور ایف ۲۲ اور ایف سوله سروں پر نه منڈلا رهے هو