کشمیر کونسل کے خاتمے کا شوشہ ۔۔
پچھلے دنوں کشمیر کونسل کے خاتمے کے حوالے سے کافی لے دے ہو رہی تھی اور مبینہ دبنگ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر صاحب بھی خوب شوشے چھوڑ کر روایتی دبنگی کا اظہار کر رہے تھے ۔
جناب راجہ صاحب ۔۔ آپ شوشے کیوں چھوڑتے ہیں ۔ آپ کی حکومت ہے دو تہائی اکثریت ہے مرکز میں بھی آپ ہی کی بھاری مینڈیٹ والی ن لیگ کی حکومت ہے ۔ بسم اللہ کیجیے ایکٹ 74 میں ترمیم کیجیے اور آزاد کشمیر اسمبلی کو با اختیار بنائیے ۔۔ یہ سادہ سا طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ آزاد کشمیر اسمبلی کو با اختیار بنا سکتے ہیں ۔ دوسرا کوئ طریقہ نہیں ۔ بڑھکیں مارنے سے کبھی نہیں ہو گا ۔
لیکن ٹھہریے ۔۔ ہم بتاتے ہیں کہ آپ کی دبنگی جعلی ہے اور آپ یہ شوشے کیوں چھوڑتے ہیں ۔
5 ججز کی تقرری ۔۔ جی ہاں 5 ججز کی تقرری کا معاملہ ۔
مروجہ طریقہ کار تو یہ ہے کہ جب 5 جج تعینات کرنے ہیں تو 15 امیدواروں کا پینل کشمیر کونسل کو بھیجا جاتا ہے جن میں سے 5 کا انتخاب کر کہ تحت ضابطہ تقرری عمل میں لائ جاتی ہے ۔
لیکن یہاں دبنگ صاحب نے میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی مرضی کے برادری ازم کی بنیاد پر 5 نام بھیجے جن کی تعیناتی مقصود تھی ۔ جو کہ ان کی خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ لہذا موصوف نے کشمیر کونسل کا شوشہ چھوڑ دیا ۔
تھوڑی سی دبنگی کی بھی وضاحت کر دوں ۔
موصوف اتنے دبنگ ہیں کہ چاپلوسی کی ساری حدیں پہلے ہی کراس کر چکے ہیں ۔ آزاد کشمیر کی تاریخ کے چاپلوسی ترین سیاستدان کا ایوارڈ جیتنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ۔
یہاں تک کہ چاپلوسی کرتے ہوئے اکثر ٹھوڈ پرت کر اتھرو ٹمسورنا شروع ہو جاتے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ۔
ویسے ٹھوڈ پرتنا پہاڑی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب رونا دھونا ہوتا ہے ۔
آخر میں مبینہ دبنگ وزیر اعظم جناب فاروق حیدر صاحب سے ایک گزارش بھی کرتا چلوں کہ آپ اپنے ایک بیان کی وضاحت بھی کر دیں جس میں آپ نے فرمایا ہے ۔ 1947 میں جو لوگ اس جنگ میں شامل تھے جو شہید ہوئے جو غازی ہوئے جو مجاہد ہیں ان کے علاوہ بھی لوگوں کی قربانیاں ہیں ۔ جناب یہ بھی لگے ہاتھوں بتا دیں کہ جو شہید ہوئے یا غازی جو مجاہد تھے ان کے علاوہ اور کون سے لوگ تھے جنہوں نے قربانی تو دی لیکن وہ غازی یا شہید یا مجاہد نہیں ہیں ۔ وہ تو صرف ڈوگرہ اور ہندو فوج کے وفادار ہی باقی بچتے ہیں ۔
آپ سے آخر میں ایک اور گزارش ہے کہ آپ برادری ازم کا گند اس ریاست میں پھیلانے کی کوشش نہ کریں ۔
یہ ریاست ہمارے بزرگوں نے بنائ اور سردار ابراہیم سے لیکر سردار قیوم کے ایچ خورشید اور ممتاز راٹھور سے آج آپ جیسے شخص تک سب نے حکومت کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سب کے لیے یکساں مواقع تھے ۔
آپ برادری ازم کا گند اپنے پاس رکھیں ورنہ آپ کے لیے چاپلوسی کے مواقع بھی ختم ہو جائیں گے ۔ چاپلوسی کر کہ دبنگ بننے پر مجھے اعتراض نہیں ۔